Zeeshan Ameer Saleemi Urdu Gazal
غزل دلِ بے صبر کو رکھا تری آسانی میں ورنہ کیا خاک مزہ تھا مری ویرانی میں رنجِ ہجراں کی حرارت نے سنبھالا مجھ کو اک چراغاں سا رہا دل کی بیابانی میں دشتِ بے برگِ تمنا میں ٹھہرنا مشکل کوئی منظر بھی نہ ابھرا شبِ حیرانی میں زخمِ اظہار کو لفظوں میں سمویا میں نے درد ترتیب سے ڈھلتا رہا پیشانی میں میں نے ہر صدمۂ جاں کو بھی سنبھالا ایسے جیسے پتھر کو تراشا ہو نگہبانی میں کربِ پیہم نے عجب ظرف عطا کر ہی دیا آگ دہکی ہی رہی ضبط کی دربانی میں میں نے خاموشی کو لفظوں کا لہو بخشا ہے اک بغاوت ہی رہی میری غزل خوانی میں اب بھی اک لرزشِ امکاں ہے مری ہستی میں ورنہ کیا جوش تھا باقی مری...