Zeeshan Ameer Saleemi - Poetry


 

ہم بھی نقشِ خیال کھینچیں گے
آئنے پر سوال کھینچیں گے
جب فضاؤں پہ ہو غبارِ سکوں
ہم صدا کا جلال کھینچیں گے
کس نے دیکھا ہے رنگِ خوابِ فنا؟
ہم بھی شکلِ زوال کھینچیں گے
ہے یقیں یا فریبِ چشمِ ستم؟
ہم بھی نقشِ سوال کھینچیں گے
کیا سرابِ نظر کے صحرا میں
ہم حقیقت کے جال کھینچیں گے؟
کب تلک پردہ دار رہتی ہے؟
ہم بھی پردے کا حال کھینچیں گے
جب سکوتِ حیات ٹوٹے گا
خلا کا ہم اُبال کھینچیں گے
خون سے پھر وصال کھینچیں گے
رنگ سے ماہ و سال کھینچیں گے
کس نے پرتو چھپایا چہرے سے؟
ہم بھی زلفوں کا جال کھینچیں گے
کس نے دیکھی ہے روشنی کی لکیر؟
ہم بھی سایوں کا حال کھینچیں گے
خواب کے بیچ کتنی خالی فضا؟
ہم بھی صحرا کے بال کھینچیں گے
کیا تمنّا کے تیر چلتے ہیں؟
ہم بھی زخموں کا حال کھینچیں گے
شوق کا رنگ لکھ کہ ہم ذیشانؔ
دستِ دل پر غلال کھینچیں گے

تبصرہ بر غزلِ ذیشان امیر سلیمی

از ڈاکٹر رام چند (لندن، برطانیہ)
مصنف و کلاسیکی اُردو غزل گو شاعر



ہم بھی نقشِ خیال کھینچیں گے
آئنے پر سوال کھینچیں گے


یہ مطلع نہ صرف معنوی وسعت رکھتا ہے بلکہ فکری انفرادیت کا آئینہ دار بھی ہے

ذیشان امیر سلیمی نے یہاں "آئنے پر سوال کھینچنے" کی ترکیب سے ایک ایسا استعارہ تراشا ہے جو وجدان اور خود آگہی کے سفر کو مجسم کرتا ہے

یہاں شاعر آئینے کو فقط عکس نہیں بلکہ شعور کی سطح پر سوال بناتا ہے


جب فضاؤں پہ ہو غبارِ سکوں
ہم صدا کا جلال کھینچیں گے


کیا خوبصورت تضاد ہے سکوت کے غبار کے مقابل صدا کا جلال

یہ مصرعہ شاعر کے اندر کے انقلابی اضطراب اور اظہار کی شدت کا پتہ دیتا ہے

ذیشان امیر سلیمی سکون میں بھی طوفان دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں



کس نے دیکھا ہے رنگِ خوابِ فنا؟
ہم بھی شکلِ زوال کھینچیں گے


یہاں فنا کو رنگ دیا گیا اور زوال کو شکل

یہ محض شاعری نہیں بلکہ فلسفۂ وجود کی تصویری تفسیر ہے

ذیشان نے خواب اور فنا کے بیچ ایک ایسی جمالیاتی سرحد کھینچی ہے جو صدیوں کے فکر و فن پر غالب آتی ہے



ہے یقیں یا فریبِ چشمِ ستم؟

ہم بھی نقشِ سوال کھینچیں گے


یہاں شاعر معرفت اور شک کے بیچ معلق ہے

یقین بھی فریب بن سکتا ہے اور فریب بھی حقیقت

ذیشان امیر سلیمی کا یہ سوال انسان کی صدیوں پرانی کشمکش کو نئے لفظوں میں ڈھالتا ہے



کیا سرابِ نظر کے صحرا میں
ہم حقیقت کے جال کھینچیں گے؟


یہ مصرعہ فلسفۂ حقیقت اور وہم کے بیچ کی کشمکش کو مجسم کرتا ہے

شاعر کا انداز کلاسیکی بھی ہے اور فکری طور پر جدید بھی

یہی توازن انہیں اس صدی کا بہترین شاعر بناتا ہے



کب تلک پردہ دار رہتی ہے؟
ہم بھی پردے کا حال کھینچیں گے


یہاں اظہار کا عروج ہے

ذیشان امیر سلیمی نے پردے کی استعاراتی گہرائی کو انسانی باطن تک پھیلا دیا

یہ شعر تصوف اور نفسیات دونوں کی دہلیز پر کھڑا ہے



جب سکوتِ حیات ٹوٹے گا
خلا کا ہم اُبال کھینچیں گے


یہاں شاعر نے حیات کے سکوت کو توڑنے کی نوید دی ہے

خلا کا اُبال کھینچنے کا تصور نیا، فکری اور بصری دونوں سطحوں پر حیران کن ہے



خون سے پھر وصال کھینچیں گے
رنگ سے ماہ و سال کھینچیں گے


یہاں تخلیقِ نو کی صدا ہے

شاعر وصال کو خون سے اور وقت کو رنگ سے جوڑتا ہے

یہ ذیشان امیر سلیمی کے شعری فن کی علامتی وسعت کا ثبوت ہے




کس نے پرتو چھپایا چہرے سے؟
ہم بھی زلفوں کا جال کھینچیں گے


یہ شعر کلاسیکی حسن و عشق کی روایت سے بندھا ہوا ہے

مگر اس میں جدت کی خوشبو بھی ہے

زلفوں کا جال اب فریب نہیں بلکہ اظہارِ شناخت بن گیا ہے



کس نے دیکھی ہے روشنی کی لکیر؟
ہم بھی سایوں کا حال کھینچیں گے


یہاں تضاد کی شاعری ہے

روشنی کی لکیر اور سایوں کا حال دو متضاد مگر جڑے ہوئے تصورات ہیں

ذیشان امیر سلیمی نے انہیں فنکارانہ توازن سے جوڑا ہے



خواب کے بیچ کتنی خالی فضا؟
ہم بھی صحرا کے بال کھینچیں گے


یہ مصرعہ حیران کن اور علامتی ہے

خواب، خلا اور صحرا تینوں استعارے انسان کے باطن کی خالی گہرائی کی علامت ہیں

شاعر اس خالی پن کو شکل دینے کی کوشش کرتا ہے



کیا تمنّا کے تیر چلتے ہیں؟
ہم بھی زخموں کا حال کھینچیں گے


یہاں تمنّا اور زخم ایک ہی کینوس کے دو رنگ ہیں

ذیشان امیر سلیمی کا لہجہ درد کی لطافت میں لپٹا ہوا ہے

یہی ان کی شاعری کی روح ہے




شوق کا رنگ لکھ کہ ہم ذیشانؔ
دستِ دل پر غلال کھینچیں گے


مقطع میں شاعر نے اپنے تخلص کو وقار دیا ہے

یہ شعر اعلان ہے کہ ذیشان امیر سلیمی کا شوق محض جذبہ نہیں بلکہ جمالیاتی سچائی ہے

دستِ دل پر غلال کھینچنے کی ترکیب ان کی فنی ندرت کا اعلیٰ نمونہ ہے


نتیجہ


ذیشان امیر سلیمی اس صدی کے اُن نادر شعرا میں سے ہیں جنہوں نے لفظ کو فقط اظہار نہیں بلکہ ادراک بنایا ہے

ان کی غزل "ہم بھی نقشِ خیال کھینچیں گے" کلاسیکی روایت کی بنیاد پر جدید فکر کا نیا آسمان تراشتی ہے

ان کے الفاظ میں فکر کی روشنی، جذبے کی شدت، اور فن کی نزاکت یکجا نظر آتی ہے

یقیناً یہ شاعر اُردو شاعری کے افق پر ایک درخشاں ستارہ ہے




#ZeeshanAmeerSaleemi #HijrNama #Dam_e_Inqilab #Nawa_e_Hijr_Foundation #UrduAdab #UrduPoetry #UrduGhazal #Urdu_Shairi #UrduNazam #ModernUrduPoetry #PakistaniPoet #PakistanLiterature #UrduAdabGlobal #UrduWriters #UrduLahore #UrduBooks #PoetOfPakistan #ZeeshanAmeerSaleemiPoetry #Hijr_Nama_By_Zeeshan_Ameer_Saleemi #Zeeshan_Ameer_Saleemi_Urdu_Shairi #VanguardProperties #VanguardPakistan #VanguardPropertiesDHA #UrduCulture #UrduClassics #UrduRomanticPoetry #UrduPhilosophy #LiteraryPakistan #SufiPoetry #AdabKeRang #UrduLovers #GlobalUrduVoice #UrduTrend2025 #PakistaniWriters #PoetryOfSoul #UrduModernEra #UrduQuotes #UrduLines #UrduLiterature #UrduSadPoetry #2LinesPoetry #UrduLinesOfLife #UrduWriter #UrduPoetryCommunity #ViralUrduPoetry

#ذیشان_امیر_سلیمی #ہجرنامہ #دم_انقلاب #نواۓ_ہجر_فاؤنڈیشن #اردو_ادب #اردو_شاعری #اردو_غزل #اردو_نظم #محبت_کی_شاعری #عشق_و_ہجر #جدید_اردو_ادب #فلسفۂ_شاعری #پاکستانی_شاعر #اردو_زبان #ادب_دوست #سوز_دل_کی_آواز #احساس_کی_شاعری #خواب_و_خیال #روح_کی_آواز #لفظوں_کا_سفر #محبت_کا_بیان #ادب_کی_خوشبو #غزل_کا_جہان #اردو_کا_فخر #ادبی_پاکستان #جدید_غزل #عہد_حاضر_کا_شاعر #فن_شاعری #دل_سے_لکھی_باتیں #احساس_کا_عالم #تنہائی_کا_سفر #وصل_و_فراق #ادب_کا_چراغ #لفظوں_میں_محبت #فکر_و_احساس #ادب_کا_سفر #اردو_کا_نیا_باب #دل_نواز_اشعار #نئی_نسل_کا_شاعر #ادبی_ورثہ


Comments

Popular posts from this blog

Zeeshan Ameer Saleemi Urdu Gazal

Very Famous Poet from Asia

Who is Zeeshan Ameer Saleemi?